باٹ[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - "لوہے یا پتھر کے گھڑے ہوئے یا ان گھڑ ٹکڑے جو اشیا کو تولنے کے لیے ترازو وغیرہ کے ایک پلڑے میں رکھے جاتے ہیں۔" "ہم وزنی کے لیے اوپر کے پلڑے میں اوپر کے جسم کے ساتھ تھوڑے سے باٹ اور زیادہ کرنے پڑیں گے۔"      ( ١٩١٨ء، تحفہ سائنس، ١٨٤ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'بٹک' ہے اس سے ماخوذ اردو میں 'باٹ' مستعمل ہے۔ ہندی میں بھی 'باٹ' ہی مستعمل ہے۔ دونوں کا ماخذ سنسکرت ہی ہے اردو میں ١٨١٨ء کو انشا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - "لوہے یا پتھر کے گھڑے ہوئے یا ان گھڑ ٹکڑے جو اشیا کو تولنے کے لیے ترازو وغیرہ کے ایک پلڑے میں رکھے جاتے ہیں۔" "ہم وزنی کے لیے اوپر کے پلڑے میں اوپر کے جسم کے ساتھ تھوڑے سے باٹ اور زیادہ کرنے پڑیں گے۔"      ( ١٩١٨ء، تحفہ سائنس، ١٨٤ )

اصل لفظ: بٹک
جنس: مذکر